کون سی آزادیء اظہار رائے؟             

                              (عاطف توقیر)                           


ہندو مت میں گائے بے انتہا مقدس ہے۔ اسے کائنات میں ’زندگی کی علامت‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مجھے گائے کا احترام کرنا ہے اور سوچنا تک نہیں ہے کہ اسے کاٹ کر کھایا جا سکتا ہے۔ مجھے شوہر کے مر جانے کے بعد آگ میں پھینکی جاتی عورتوں کو جل کر بھسم ہوتے دیکھنا ہے، مگر آواز نہیں اٹھانی، کیوں کہ اس سے یہ تماشہ دیکھتے تماش بینوں کی دل آزاری ہو سکتی ہے۔ مجھے عیسائیوں کے اس عقیدے کا احترام کرنا ہے کہ عیسیٰ خدا کا بیٹا تھا اور تمام انسان پیدائشی گناہ گار ہیں اور جب تک کوئی راہب کوئی پادری مجھے بپتسمہ نہیں دیتا اور دائرہ عیسائیت میں نہیں لاتا، میں اس وقت تک ناپاک، گناہ گارم منحوس اور بدقسمت رہوں گا۔ مجھے یہ پوچھنے کی ہرگز اجازت نہیں کہ کیا خدا کو انسانوں کے گناہ معاف کرنے کے لیے اپنے ہی بیٹے کو زمین پر ایسی دل دوز موت دینا پڑتی ہے؟ مجھے عیسائیوں کے اس عقیدے کے خلاف کچھ نہیں بولنا، کیوں کہ اس سے ان کی دل آزاری ہو سکتی ہے۔ مجھے یہودیوں کے اس عقیدے کا بھی احترام کرنا ہے کہ بنی اسرائیل خدا کی برگزیدہ ترین قوم ہے اور بہ قول عہدنامہ قدیم ’خدا بنی اسرائیل اور مصریوں (دیگر انسانوں) میں فرق‘ کرتا ہے۔ مجھے عہدنامہء عتیق کی ان ہدایات کا احترام بھی کرنا ہے کہ تہذیب بابل پر ٹوٹ پڑو اور وہاں بچوں تک کو ذبح کر دو، ’’ہاں چوں کہ بچے گناہ گار نہیں ہوتے، اسے لیے وہ جنت میں چلے جائیں گے، تاہم تم کسی کو مت چھوڑنا۔‘‘ مجھے بائبل کے اس باب کا احترام بھی کرنا ہے، جو مجھے کہتا ہے کہ انسانیت کی تاریخ دس ہزار برس سے بھی کم پرانی ہے۔ مجھے چالیس ہزار سال پرانی انسانی کھوپڑیاں اپنے سامنے پڑی دیکھنے کے باوجود اس بات پر اصرار کرنا ہے کہ بائبل درست کہتی ہے۔ مجھے نمیبیا کے شمال میں ایک آدم خور قبیلے کی اس عورت کے اس یقین کا احترام بھی کرنا ہے، جو اپنے مردہ بچے کو قبیلے کی روایت کے مطابق کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھی، اور اس بات مُصر تھی کہ وہ اپنے اس مردہ جگر گوشے کو مٹی اور آگ جیسے گھٹیا عناصر کے سپرد کیسے کر سکتی ہے اور اپنے وجود سے پیدا ہونے والے اس بچے کو اپنے وجود سے دور کیسے کر سکتی ہے۔ مجھے ایمازون کے بے لباس قبیلوں کے عقیدوں کا احترام بھی کرنا ہے، جہاں لباس پہن لینا، ’’فطرت کی بنیاد ہی سے دغا‘‘ ہے۔ مجھے ان یونانی دیوتاؤں اور دیومالائی کہانیوں کا احترام بھی کرنا ہے، جو زیوس اور انسانی عورت کے اختلاط سے ہرکولیس جن رہے ہیں، جہاں سیارے خدا بن کر زمین کے گرد رقصاں ہیں اور جہاں زمیں اس کائنات کا مرکز ہے۔ میں اس کے برخلاف کچھ کہہ کر کوئی سوال اٹھا کر قدیم یونانیوں کی دل آزاری نہیں کر سکتا۔ مجھے ہزاروں برس قبل آگ کو خدا سمجھتے لوگوں کا بھی احترام کرنا ہے اور مصر میں دریائے نیل کی طغیانیوں کے واسطے نوجوان دوشیزاؤں کو لہروں کے سپرد کرنے کی رِیت پر بھی سوال نہیں کرنا، اس سے ان مصریوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ مجھے بدھ بھکشوؤں کا بھی احترام کرنا ہے اور بدھا کے اس رویے پر بھی سوال کرنے سے احتراز کرنا ہے کہ اپنی بیوی اور بچوں کو تنہا چھوڑ کر کوئی کیسے نروان پا سکتا ہے؟ مجھے ایران میں خمینی کے خلاف اور سعودی عرب میں بادشاہ کے خلاف بھی کچھ نہیں بولنا، کیوں کہ اس سے ان ایرانیوں اور سعودیوں کی دل آزاری ہو سکتی ہے۔ مجھے اسرائیل میں فلسطینیوں کے حق میں، ترکی میں کردوں کے حق میں، میانمار میں روہنگیا کے حق میں، چین میں ایغوروں کے حق میں، بھارت میں کشمیریوں کے حق میں اور سری لنکا میں تاملوں کے حق میں بات نہیں کرنی، اس سے مقامی اکثریت کی دل آزاری ہو سکتی ہے۔ مجھے سائنس نہیں پڑھنی، کیوں کہ وہ میرے نظریات پر سوالات اٹھا سکتی ہے۔ وہ مجھے بتا سکتی ہے کہ اس کائنات میں ہر شے حرکت اور مستقل ارتقا کی اذیت سے دوچار ہے مگر نظریات ٹھہرے ہوئے ہیں۔ میرے سوچنے، میرے بولنے، میرے سوال اٹھانے، میرے تاریخ کا مطالعہ کرنے، میرے پڑھنے، میرے تحقیق کرنے، میرے غور و فکر کرنے جیسے عمل کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔ مجھے کسی بھی مذہب کی توہین نہیں کرنی، مجھے علم کا راستہ ترک کر دینا چاہیے، مجھے غور و فکر چھوڑ کا ہجوم کا حصہ بن جانا چاہیے۔ مجھے خاموش ہو جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر کہتا ہے کہ بہ حیثیت انسان، ہر شخص کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جو چاہے سوچے اور جو چاہے بولے۔ مگر یہ انسانوں کا بنایا ہوا دستور ہے، مجھے اس کا احترام کرنے کی ہر گز ضرورت نہیں۔
 

                       ’دنیا کے قدیم مذہب زرتشت کی پجارنیں‘

زرتشتی آج اپنے هی ملک میں 

اقلیت کی حیثیت سے رہ رہے 

ہیں۔ زرتشت دنیا کے قدیم ترین 

مذاہب میں سے ایک ہے۔

زرتْشت مذہب کو عرف عام 

میں پارسی مذہب بھی کہا جاتا 

ہے۔ اس مذہب کو "زردْشت" ہی نے ایجاد کیا تھا۔ یہ ایران میں زرتشت کے ذریعہ 3500 سال پہلے وجود میں 

آیا اور تقریبا ایک ہزار سال تک بہت طاقتور مذہب رہا لیکن آج یہ دنیا کا سب سے چھوٹا مذہب ہے۔ اس مذہب 

کے ماننے والے ایک لاکھ نوے ہزار سے بھی کم تعداد میں رہ گئے ہیں کیونکہ یہ مذہب غیر تبلیغی ہے اور 

کوئی شخص جو پارسی ماں باپ سے نہ ہو وہ اسے نہیں اپنا سکتا۔ ہر دس برس بعد ان میں دس فیصد کمی 

واقع ہوتی ہے جس کی وجہ سے شرح پیداش میں کمی ہے۔ دوسرے اس مذہب کی خواتین میں غیر شادی شدہ 

رہنے کا رجحان بھی زیادہ ہے۔اس مذہب سے پہلے مرد راہب ہی منسلک ہوتے تھے تاہم اب زرتشت سے تعلق 

رکھنے والی خواتین پجارنیں بھی مذہبی رسومات کی ادائیگی کرتی ہیں۔ ان خواتین میں سے بہت سوں کا تعلق 

بھارتی پارسی خاندانوں سے ہے۔ان کی عبادت گاہوں میں بْت نہیں ہوتے بلکہ صندل کی لکڑی سے آگ جلا کر 

اس کی پرستش کی جاتی ہے۔ یہ لوگ پہلے بھی آفتاب کی پرستش کے عادی تھے۔ ان کی عبادت گاہ ”آتش کدہ“ 

کہلاتی ہے۔ اس مذہب میں صحت، تندرستی، تعلیم اور قول و فعل کی پاکیزگی پر بہت زور دیا گیا ہے

   کیا آپ کو معلوم ہے ہر مسافر جہاز کی دُم پر اس سوراخ کے اندر کیا چیز چھپی ہوتی ہے؟ بشکریہ سچار نیوز ڈاٹ کام

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ جانتے ہیں کہ ہوائی جہاز کی دم میں موجود اس بڑے سے سوراخ کا کیا مقصد ہے؟ آئیے آپ کو بتائیں۔ یہ دراصل ہوائی جہاز کے ایک اضافی خفیہ انجن (Auxiliary power unit)کا حصہ ہوتا ہے۔ جہاز کا یہ انجن اسے اڑنے یا رن وے پر دوڑنے میں کوئی مدد فراہم نہیں کر سکتا۔ یہ صرف ایک جنریٹر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔


جب جہاز ایئرپورٹ پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے باقی انجن بند ہوتے ہیں تو یہ انجن جہاز کے اندر کاک پٹ، کافی میکر، کیبن لائٹس و دیگر استعمال کے لیے بجلی کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جہاز کی دم میں موجود اس سوراخ کو آپ اس انجن کا سائلنسر کہہ سکتے ہیں جس سے انجن سے نکلنے والی گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جب ہوائی جہاز رن وے پر ہوتا ہے یا پھر فضاء میں اڑ رہا ہوتا ہے تو یہ سوراخ جہاز کے ایئرکنڈیشن سسٹم کو باہر سے ہوا فراہم کرنے کا کام بھی دیتا ہے، کیونکہ اس وقت جہاز کا یہ اضافی انجن بند ہوتا ہے اور اس سے گیسیں خارج نہیں ہو رہی ہوتیں۔ دوسری طرف جہاز کا یہ اضافی انجن بند کھڑے جہاز کو بجلی فراہم کرنے کے ساتھ اس کے دیگر انجنوں کو سٹارٹ کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ جب دوسرے انجن سٹارٹ ہو جاتے ہیں تو یہ خود بخود بند ہو جاتا ہے اور پھر تب سٹارٹ ہوتا ہے جب جہاز دوبارہ ایئرپورٹ پر آ کر کھڑا ہوتا ہے اور پائلٹ اس کے انجن سوئچ آف کردیتا ہے۔


            1926ء میں سمارٹ فون کے بارے میں پیش گوئی کرنے والا سائنس دان بشکریہ دنیا پاکستان

اگر آپ کو یہ بات بتائی جائے کہ 1926ء میں ایک سائنس دان نے آج کی جدید دنیا میں استعمال ہونے والے سمارٹ فون اور وائرلیس ایجادات کے بارے میں 1926ء میں بتا دیا تھا تو آپ کو یقین نہیں آئے گا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ سربیائی امریکی سائنس دان نکولا ٹیسلا نے ہماری زندگیوں کو بدل دینے والے آلات مثلاً سمارٹ فون اور ابلاغ کی دوسری جدید ترین ایجادات کے بارے میں پیش گوئی کر دی تھی۔ ٹیسلانے جدید آلاتِ ابلاغ کے بارے میں یہ پیش گوئیاں 1926ء میں ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کی تھیں۔ ٹیسلا کی 159سالگرہ کے موقع پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے انٹرویو کا اقتباس پیش کیا جا رہا ہے۔

’’جب وائرلیس مکمل طور پر کام کرنے لگے گاتو ساری زمین ایک بہت بڑے دماغ میں ڈھل جائے گی، جو کہ حقیقتاً ہے بھی، اورتمام چیزیں ایک بہت بڑے کُل کے اجزا کے طور پر کام کرنے لگیں گے۔ فاصلوں سے قطع نظرہم ایک دوسرے سے فوری بات قائم کر سکیں گے۔ نہ صرف یہ بلکہ ٹیلی وژن اور ٹیلی فونی کے ذریعے ہم ایک دوسرے کو دیکھ اورسن سکیں گے بالکل ایسے جیسے ہم ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں، چاہے ہمارے درمیان میلوں کا فاصلہ ہو؛ اور یہ سب کچھ ہم جس آلے کی مدد سے کریں گے وہ ہمارے موجودہ ٹیلی فون کی نسبت اتنا سادہ اور چھوٹا ہوگا کہ ہم اسے اپنی جیکٹ کی جیب میں ڈال کر لیے پھریں گے۔ ہم صدر کی تقریب حلف برداری، ورلڈ سیریز کا میچ، زلزلوں سے پھیلنے والی تباہی یا جنگ کی وحشت انگیزی جیسے واقعات کو دیکھ اور سن سکیں گے ، بالکل ایسے جیسے ہم موقع پرموجود ہیں۔ جب بجلی کی وائرلیس ٹرانسمیشن ممکن ہو جائے گی تو ٹرانسمیشن کی دنیا میں انقلاب آ جائے گا۔ ابھی بھی موشن پکچرز تھوڑے سے فاصلے پر تصویریں ٹرانسمٹ کرتی ہے۔ کچھ ہی عرصے میں اس فاصلے کی کوئی حد نہیں رہے گی، کچھ عرصے سے میری مراد صرف چند سال ہیں۔ تصاویر تار کے ذریعے ٹرانسمٹ کی جائیں گی--پوائنٹ سسٹم کے ذریعے انہیں ٹیلی گراف کرنے کا تجربہ تیس سال قبل کامیابی سے ہم کنار ہو چکا ہے۔ جب پاور کی وائر لیس ٹرانسمیشن عام ہو جائے گی تو یہ طریقے اتنے موثر ثابت ہوں گے جتنا بھاپ کے 

انجنوں کے مقابلے میں بجلی سے چلنے والے انجن۔‘‘




              بیوی حاملہ ہوئی، تبدیلیاں شوہر میں نمودار ہونا شروع ہو گئیں 
                         بشکریہ رکن ٹایم ڈیرہ


برمنگھم (نیوز ڈیسک) برطانیہ میں ایک شخص کی بیوی کے حاملہ 


ہوتے ہی خود اس میں بھی حمل کی تمام کیفیات نمودار ہوگئی ہیں 


اور ڈاکٹروں کی تصدیق کے بعد اس کی کمپنی نے اسے صحت کا 


خیال رکھنے کیلئے چھٹیاں بھی دے دی ہیں۔ انتیس سالہ ہیری ایشبی 


سیکیورٹی گارڈ ہے جبکہ اس کی 19 سالہ بیوی شارلٹ ایلسوپ ہیئر ڈریسر ہے اور دونوں عرصہ تین سال 


سے ہمسفر ہیں۔ چند ماہ قبل شارلٹ حاملہ ہوئی تو کچھ عرصہ بعد ایشبی میں بھی اس جیسی کیفیات اور 


علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئیں۔ دونوں میں قے آنا، کمر اور چھاتی کا درد، ہمہ وقت تھکاوٹ اور حتیٰ کہ 


پیٹ اور چھاتی کی جسامت میں اضافہ یکساں نمودار ہوگیا۔ ایشبی اپنے جسم میں اپنی بیوی جیسی تبدیلیاں 


دیکھ کر گھبرا اٹھا اور ڈاکٹر سے رابطہ کرلیا جس نے تفصیلی معائنے کے بعد بتایا کہ وہ کوواڈ 


(Couvade) نامی نادر مسئلے کا شکار ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں مرد میں بیوی سے غیر معمولی 


جسمانی و ذہنی قربت کی وجہ سے وہی محسوسات اور تبدیلیاں شروع ہوجاتی ہیں جو اس کی بیوی میں 


ہورہی ہوتی ہیں۔ ایشبی نے ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ لے کر اپنی کمپنی کو چھٹی کی درخواست دے دی جسے اس 


کی حالت کے پیش نظر منظور کرلیا گیا ہے۔ شارلٹ نے شکوہ کیا ہے کہ بجائے اس کے کہ اس کا خاوند اس 


کا خیال رکھے الٹا اسے یہ فرض سرانجام دینا پڑرہا ہے۔


                         نحوست کا سایہ- بھارتی دوشیزہ کی کتے سے شادی
                                بشکریہ رکن ٹایم ڈیرہ


نیودہلی (نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں ایک 18 سالہ 


لڑکی نے اپنے والدین اور رشتہ داروں کی رضامندی اور مرضی 


کے مطابق ایک آوارہ کتے سے شادی کر لی ہے۔ منگلی منڈا نامی 


لڑکی کے والدین کو ایک مذہبی گرو نے بتایا تھا کہ ان کی بیٹی پر 


نحوست کا سایہ ہے اور وہ جس مرد سے شادی کرے گی وہ ان کی 


نحوست کا شکار ہو جائے گا اور سارے گاﺅں پر بھی افتاد طاری ہو سکتی ہے۔ گرو نے اس مصیبت کا حل 


یہ بتایا کہ لڑکی کی شادی کسی آوارہ کتے سے شادی کر دی جائے اور والدین نے اس تجویز پر صدق دل 


سے عمل بھی کر دیا۔ لڑکی کے والد سری امن منڈا نے گاﺅں کے ایک آوارہ کتے ”شیرو“ کو اپنے داماد کے 


طور پرمنتخب کر لیا اور خوب دھوم دھام سے شادی کی گئی۔ اس موقع پر سارے گاﺅں نے شرکت کی اور 


کسی بھی عام شادی کی طرح رسوم ادا کی گئیں۔ لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس کے کتے داماد کی وہ اتنی 


ہی عزت کریں گے جتنی کہ لوگ انسانی داماد کرتے ہیں۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ اسے کتے کی دلہن بننا اچھا 


نہیں لگ رہا لیکن گاﺅں کے بزرگوں نے اسے اجازت دی ہے کہ کچھ مہینے کتے کے ساتھ گزارنے کے بعد 


وہ کسی مرد سے شادی کر سکتی ہے اور اس کیلئے کتے سے طلاق لینا ضروری نہیں ہو گا۔



           عنقریب مرد بھی بچوں کو جنم دیں گے، سائنسدانوں کے تجربات
                    بشکریہ رکن ٹایم ڈیرہ   


نیویارک (نیوز ڈیسک) قدرت کے وضع کردہ نظام تولید میں بچہ 


ماں کے پیٹ میں پرورش پاتا ہے لیکن جدید سائنس نے اس 


معاملہ میں بھی ایک نئی اور ناقابل یقین راہ نکالنے کی کوشش 


شروع کردی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ممکن 


ہونے والا ہے کہ عورت کی بجائے مرد بھی بچے کو جنم دے 


سکے گا۔ اس مقصد کیلئے باقاعدہ تجربات دس سال کے عرصہ میں شروع کئے جارہے ہیں اور یہ 


ٹیکنالوجی مزید 20 سال تک دستیاب ہونے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔ ایکٹو جینسیس کہلانے والی اس 


ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک مصنوعی رحم تیار کیا جائے گا جسے امنیوٹک سابقات سے بھرا جائے گا اور 


اس کے ساتھ ساتھ متعدد تاریں اور ٹیوبز لگائی جائیں گی۔ مردانہ سپرم اور مادہ انڈہ اس مصنوعی رحم 


میں رکھ کر اس کی پرورش کی جائے گی اور وہ کام جو ماں کے پیٹ میں سرانجام پاتا ہے وہ اس 


مصنوعی رحم میں مکمل ہوگا اور نوماہ کے بعد بچے کی پیدائش ہوجائیگی۔ واضح رہے کہ مصنوعی رحم 


میں انسانی بچے دس دن تک پرورش کرنے کے تجربات پہلے ہی کامیابی سے کئے جاچکے ہیں لیکن فی 


الحال قانونی پابندیوں کی وجہ سے 14 دن سے زیادہ وقت کیلئے انسانی بچے کی مصنوعی رحم میں پرورش

نہیں کی جاسک۔



                    انٹرنیٹ نہ سہی، آؤٹرنیٹ تو ہے
                   بشکریہ بی بی سی


کیا آج یہ ممکن ہے کہ ایک مکمل لائبریری کو سمیٹ کر آپ کی 


جیب میں رکھ دیا جائے؟ زیادہ تر لوگ اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں 


دیں گے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ اس کے لیے آپ کو صرف ایک 


موبائل فون چاہیے اور اس کے ساتھ انٹرنیٹ کنکشن۔


لیکن ان بے شمار لوگوں کا کیا ہوگا جو انٹرنیٹ تک رسائی سے 


محروم ہیں۔ سید کریم کہتے ہیں کہ اس سوال کا جواب بھی ’ہاں‘ ہے۔


لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟


اسی سوال کے جواب کے لیے ٹیڈ گلوبل نامی کمپنی سے منسلک سید کریم کو برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو 


آنے کی دعوت دی گئی ہے جہاں وہ ایک کانفرنس میں شرکت کریں گے جس کا مقصد ٹیکنالوجی کی دنیا میں 


نت نئے آلات کو منظر عام پر لانا ہے۔


سید کریم نے ’آؤٹرنیٹ‘ کے نام سے ایک کمپنی بنائی ہے جس کا مقصد اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے کہ 


دنیا کی اس دو تہائی آبادی کی انٹرنیٹ تک رسائی کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے جس کے پاس انٹرنیٹ 


کنکشن نہیں ہے۔


فی الحال آؤٹرنیٹ کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے رسیور استعمال کیے جا رہے ہیں


بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سید کریم کا کہنا تھا کہ جب آپ انٹرنیٹ کی بات کرتے ہیں تو آپ کے ذہن 


میں دو چیزیں ہوتی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ اور معلومات تک رسائی۔ ’انٹرنیٹ کو جو چیز اتنا 


مہنگا بناتی ہے وہ دوسرے لوگوں سے رابطہ ہے۔ اسی لیے آؤٹرنیٹ رابطے کی بجائے معلومات تک 


رسائی کی بات کرتا ہے۔‘


سید کریم کے منصوبے کا مقصد دنیا بھر سے بہترین معلومات کی ایک ایسی لائبریری بنانا ہے جس تک آپ 


انٹرنیٹ کے بغیر بھی رسائی حاصل کر سکیں۔ اس لائبریری کے لیے درکار معلومات اور کتب بلاقیمت ’وکی 


پیڈیا‘ اور ’پراجیکٹ گوٹنبرگ‘ جیسی مشہور ویب سائیٹس سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ سید کریم کا کہنا ہے 


کہ وہ اپنی مذکورہ لائبریری کو ہر ماہ ’اپ ڈیٹ‘ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


لائبریری کے علاوہ آؤٹرنیٹ پر ایسے معلومات بھی دستیاب ہوں گی جنھیں مسلسل تبدیل یا اپ ڈیٹ کرنے کی 


ضرورت ہوتی ہے، مثلاً خبریں اور کسی علاقے میں قدرتی آفات کے حوالے سے معلومات، جنھیں ہرگھنٹے 


میں کئی مرتبہ اپ ڈیٹ کیا جا سکے گا۔


آؤٹرنیٹ کے مقابلے میں انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے گوگل بھی بڑے بڑے غبارے استعمال کر رہا ہے


منصوبے کے مطابق جب یہ سب معلومات ایک جگہ اکٹھی ہو جائیں گی تو پھر انھیں ایک سیارے کے ذریعے 


نشر کیا جائے گا اور زمین پر لگے ہوئے ’رسیور‘ کے ذریعے یہ معلومات ان علاقوں میں جمع ہوتی جائیں 


گی جہاں انٹرنیٹ نہیں ہے۔


سیارے سے معلومات اکٹھی کرنے کے بعد انٹینا لگے ہوئے یہ رسیور ’وائی فائی‘ لِنکس بنائیں گے جن تک 


آپ اپنے موبائل کے ذریعے رسائی حاصل کر لیں گے۔


اس کی مثال دیتے ہوئے سید کریم کا کہنا ہے کہ اگر ہم افریقہ کے کسی دور دراز دیہات میں انٹینا لگا کر ایسا 


ایک ’ہاٹ سپاٹ‘ تنصیب کر دیتے ہیں تو اس سے گرد و نواح میں رہنے والے 300 افراد درجنوں کتابوں اور 


دوسری معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔


’ اگر آپ سیارے سے معلومات حاصل کرنے والے ایسے ہاٹ سپاٹ کے قریب ہیں تو آپ اپنے موبائل فون پر 


آؤٹرنیٹ کے ذریعے ہمارے صفحہ اوّل پر جا کر اپنی پسند کے لِنک پر کِلک کر سکیں گے۔ یہ ایسے ہی ہوگا 


جیسے کوئی ’آف لائن‘ ویب سائٹ۔ یہاں آپ کو کئی اعداد وشمار دستیاب ہوں گے جو ایک لائبریری کی طرح 


مختلف فائلوں میں پڑے ہوں گے۔‘


آؤٹرنیٹ نے عالمی بینک کے تعاون سے اپنا پہلا بڑا منصوبہ شمالی سوڈان میں شروع کیا ہے


انٹرنیٹ کے برعکس آؤٹرنیٹ چونکہ یکطرفہ رابطے کا ذریعہ ہے اس لیے آپ کو اس پر ای میل یا ’چیٹ‘ 


کرنے کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔ تاہم صارفین کو یہ سہولت میسر ہوگی کہ اگر وہ کسی خاص کتاب یا 


معلومات تک رسائی چاہتے ہیں تو وہ ٹیکسٹ میسج کے ذریعے اپنی فرمائش بھجوا سکیں گے۔


سید کریم کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کی کمپنی فضا میں موجود انہی سیاروں پر انحصار کر رہی ہے جو آڈیو 


اور ویڈیو معلومات جمع کرتے ہیں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں نشر کرتے ہیں۔ ’اس طرح ہم اِسی 


ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہے ہیں یا اسے تھوڑا بہت موڑ توڑ رہے ہیں جو لوگوں کو باآسانی اور سستے 


داموں دستیاب ہے۔ ہم چاہتے ہیں لوگوں کو نئی چیزیں کم سے کم خریدنا پڑیں۔‘


’ابھی تو ہم بڑے سیاروں پر انحصار کر رہے ہیں۔ تاہم آگے چل کر ہمارا ارادہ ہے کہ ہم ایسے چھوٹے 


چھوٹے سیارے چھوڑیں جو فضا میں بہت بلندی پر نہ جائیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم ایسے چھوٹے اینٹینوں 


کی مدد سے ان سیاروں تک رسائی حاصل کر لیں جو لوگ اپنی جیبوں میں لیے گھوم پھر سکیں گے۔‘


                                           نینڈرتهال کون تهے؟
                                     بشکریہ اردو ساینس بلاگ


برفانی دور کے لئے

انتہائی موزوں و موثر تهے

لیکن کیوں

جب برفانی دور ختم ہوا


نینڈرتهال مر گئے..!!


نینڈرتهال کون تهے؟


1848ء میں جبرالٹر فوجی 


چوکی پر ایک غیر مانوس 


عجیب انسانی کهوپڑی ملی


. بلاشبہ یہ ایک انسانی کهوپڑی تهی لیکن حیران کن طور پہ اس کهوپڑی میں ایک بندر کی بهی تمام 


خصوصیات موجود تهی.


یہ کهوپڑی پیشانی سے لے کر سامنے چہرے کی ساخت تک حیران کن مماثلت لئے ہوئے تهی.


یہ عجیب مخلوق کیا تهی؟ یہ کب اس زمین پہ بسا کرتے تهے؟ اس کی باقیات دریافت ہونے سے پہلے یہ 


دریافت کر لیا گیا کہ یہ پورے یورپ اور اس کے گرد و نواح میں رہا کرتے تهے. مزید شواہد ملنے اور ان 


کی باقیات دریافت ہونے کے بعد اس قدیم انسان نما مخلوق کا نام ہومو نینڈرتهالینسس دیا گیا اور انسان کی قدیم 


نسل نامزد کیا گیا.


آثارِ قدیمہ کے ثبوتوں سے انکشاف ہوا کے قریباً دو لاکھ سال پہلے یہ نینڈرتهال انسان یورپ میں رہا کرتے 


تهے اور تقریباً تیس ہزار سال پہلے یہ اچانک کرہ ارض سے غائب ہونا شروع ہو گئے.  یہ عین وہی وقت 


ہے جب آج کی انسانی نسل کا ظہور ہونا شروع ہوا.


تحقیقی معلومات کے مطابق ایک لاکھ سال پہلے نئی نسل کے انسانی آباؤ اجداد جو کہ بہترین دماغوں اور 


معیاری اوزاروں کے ساتھ افریقہ کے اطراف میں پهیلے ہوئے تهے. ہمارے آباؤ اجداد کی آبادی پهیل کے 


یورپی علاقوں میں پہنچی تو ان کا سامنا اپنے کزن نینڈرتهال سے ہوا.


لیکن کیا حقیقتاً نینڈرتهال بندر نما حیوانی نسل تهی یا ہم انسانوں کی کوئی نسلی حریف تهے. ؟ وہ کس طرح 


خاتمے سے دو چار ہوئے؟ اور کیا ہڈیوں میں اس طرح کا خودکار ارتقاء رونما ہو سکتا ہے؟

تحقیقات کے لئے ایک مکمل ڈهانچے کی ضرورت تهی اور اس وقت تک ایک بهی مکمل نینڈرتهال 


درافت نہیں ہوا تها.


تاہم نیویارک میں امریکن نیچرل ہسٹری میوزیم میں ایک تعمیرِ نو کے ماہر نے اس بات کو ممکن بنایا کہ 


نینڈرتهال کے موجودہ دستیاب باقیات کے جزوی ڈهانچے سے ایک مکمل ڈهانچہ بنایا جا سکے.

گرے سوئیر نے ان تمام ٹوٹے ٹکڑوں کو اکٹها کیا اور اب تک کے تقریباً مکمل نینڈرتهال کی تعمیر نو کی.

اس نینڈرتهال کا قد 4 فٹ 5 انچ کے قریب تها لیکن وہ برفانی دور کے حساب سے ایک مضبوط قد کاٹھ اور 


جسامت کے مالک تهے. لیکن کیا وہ موجودہ انسانی نسل کے مقابلے میں سرد ماحول کا بہتر مقابلہ کر سکتے 


تهے؟


سرد دور کا ایک مقبول ترین تصور وہ دور جو سرد یخ جسم کو جما دینے والا دور ہے. لیکن قریباً کئی لاکھ 


سال پہلے یورپ کی آبو ہوا میں بہت بڑی تبدیلی آئی تهی جس میں گرم اور سرد ہوا کے طویل دور تهے.


لیکن آج نینڈرتهال کیوں باقی نہیں رہے حالانکہ دو لاکھ سال پہلے نینڈرتهال اس وقت سرد دور میں زندہ تهے 


جب زمین کا موسم آج کے مقابلے میں زیادہ ٹهنڈا اور کم گرم ہوا کرتا تها


نیو اورلینس کی ٹیولین یونیورسٹی سے تعلق رکهنے والے پروفیسر ٹرینٹن ہولیڈے جسمانی اعضاء کی 


منصوبہ بندی کے ماہر نے نینڈرتهال کے ڈهانچے کا معائنہ کیا ہے. پروفیسر کو یقین ہے کہ نینڈرتهال کے 


مختصر اعضاء اور ایک وسیع قفص صدوری ( Rib Cage ) کی وجہ سے یہ مختصر جسم گرمی کو 


برقرار رکهنے کا کام کرتا تها. اس کے علاوہ ان کی جلد کم اور زیادہ سردی سے بچاؤ میں بہت معاون ثابت 


ہوا کرتی تهی.


یہ دیکهنے کے لئے کہ یہ جسمانی ساخت ان کی بقاء میں کتنی مددگار ہوا کرتی تهی.


ماہر بشریات پروفیسر لیسلی ایلو نے لوفبروگ یونیورسٹی میں یو سی ایل سے تعلق رکهنے والے ڈاکٹر جارج 


ہیونتھ کے ساتھ مل کر ایک تجربہ کیا جو کہ انسانی جسم میں درجہ حرارت برقرار رہنے کا مطالعہ کرنے 


کے لئے ایک لیبارٹری چلا رہے ہیں. 

انہوں نے دو انسانوں پر تجربہ کیا جو ایک دوسرے سے بلکل مختلف جسمانی مدافعت کے حامل تهے. انہیں 


برف سے ایک برفانی غسل دیا گیا.

ان میں سے ایک آدمی کے اعضاء لمبے اور کسی ایتھلیٹ کی مانند تهے جب کے دوسرے آدمی کا نینڈرتهال 


سے ملتا جلتا بهاری بهرکم مضبوط جسم تها.

بهری بهرکم مضبوط جسم والا شخص زیادہ دیر تک برفانی غسل میں لیٹا رہا، تو اس سے لگتا ہے کہ کیوں 


نینڈرتهال کے لئے یہ بهاری جسم فائدہ مند رہا ہو گا. نینڈرتهال کے پٹهے مدافعتی نظام اور اس کا چوڑی 


چهاتی اعضاء کو گرم رکهنے کا کام سرانجام دیتے ہوں گے.


اس کے باوجود اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ نینڈرتهال اپنے مدافعتی نظام کی بدولت شدید سرد دور سے بچنے 


میں کامیاب ہوئے ہوں گے. ایک قطبی بنجر زمین پر اس کے پٹهوں کو اس سے دوگنا خوارک کی بهی 


ضرورت تهی جتنی ہمیں آج ضرورت ہے. 


آثار قدیمہ کے ثبوتوں کے مطابق نینڈرتهال جنگلات کے کناروں پر آباد تهے جہاں وہ بڑے جانوروں جیسے 


سرخ ہرن، گھوڑے یا جنگلی بھینسوں کا شکار کیا کرتے تهے.

جنگل انہیں پناہ گاہیں اور نیزے بنانے کی لکڑی مہیا کرتے تهے.


سٹونی بروک یونیورسٹی نیویارک کے پروفیسر جان شیا،  نینڈرتهال کے اوزاروں کا مشاہدہ کرتے ہوئے لکها 


کہ ان کے نیزے کا ڈنڈا موٹا اور بهاری تها، اگر وہ جنگل میں شکار کرنے جاتے تو کسی جانور پر یہ نیزہ 


پھینکنا بیکار تها. تو پهر وہ آخر شکار کیسے کیا کرتے تهے؟


اس سوال کے جواب کی نشاندہی پروفیسر ہولیڈے نے نینڈرتهال کے ڈهانچے میں کی، نینڈرتهال اپنے بائیں 


کی نسبت دائیں طرف سے زیادہ مضبوط تهے. اس لئے ان کی دائیں بازو سے گرفت مضبوط اور طاقتور تهی.


یہ دیکهنے کے لئے کہ، کیسے شکار کرنے کے لئے اعضاء میں تبدیلی آئی ڈیوک یونیورسٹی سے  پروفیسر 


سٹیوو چرچل نے ایک اور تجربہ کرنے کی ٹهانی.


ہالیڈے کے تجربات سے اخذ شدہ نتائج میں ہمیں پتہ چلا کہ نینڈرتهال گهات لگانے والے شکاری ہوا کرتے 


تهے. وہ شکار کو گهیرتے اس کے نزدیک پہنچتے اور نیزوں سے حملہ کر دیا کرتے. نینڈرتهال اب تک کی 


سب سے زیادہ گوشت خور نسل ہوا کرتے تهے.


لیکن ان کے خونخوار شکاری ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں تها کے وہ ذہانت کے لحاظ سے سادہ لوح ہوا 


کرتے تهے. کیا ہمیں اس کے ڈهانچے سے اس بارے میں پتہ چل سکتا ہے؟  کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں 


قدیم دماغوں پر تحقیق کرنے کے ماہر پروفیسر رالف ہولووے نے اس بارے میں تحقیق کی ہے.


نینڈرتهال کی کهوپڑی پر پروفیسر کی تشخیص چونکا دینے والی تھی. اس کا حجم جدید نسل کے انسانوں سے 


20 فیصد زیادہ تها. اس کهوپڑی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دائیں بازو سے کام کرتے تهے اور ان کا دماغ ہمارے 

جدید دماغ جتنا ہی پیچیدہ تها. ان میں سوچنے کی صلاحیت بهی ہمارے جیسی تهی.

لیکن ہمارے دماغ کی ایک اضافی صلاحیت بہت خاص ہے.

اور وہ یہ کہ ہم بول سکتے ہیں.

یہ خوبی ہمیں آج کی دنیا میں دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتی ہے.

تو کیا یہ معلوم کرنا بهی ممکن ہے کہ نینڈرتهال بهی بول سکتے تهے یا نہیں؟ 


اس مرحلے میں گلے پر تحقیق لازمی جزو تهی. حلق میں ایک چھوٹی ہڈی ہوتی ہے جسے لامی ہڈی ( 


hyoid ) کہا جاتا ہے. یہ ہڈی حلق کی نرم بافتوں کی حمایت کرتی ہے جس سے آواز نکالنے میں مدد ملتی 


ہے. سائنسدانوں کے چند گروپ کو ہڈیوں سے ان نرم بافتوں کا ماڈل بنانے کی کوشش کرنی تهی جس یہ 


دریافت ہو گا کہ یہ کس قسم کی آواز نکالنے کے قابل تھے. 


آئیووا یونیورسٹی سے تعلق رکهنے والے پروفیسر باب فرانسسکس ایک بین الاقوامی گروپ کا حصہ ہیں 


جنہوں نے یہ کام سرانجام دیا. انہوں نے جدید انسان کے سکین تیار کئے اور ان کا مشاہدہ کیا جس سے معلوم 


ہوا کہ،

حلق کے حصے کی نرم بافتوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ، لامی ہڈی اور لنگر کاری سائٹس کهوپڑی کے 


کس حصے پر واقع ہیں.


کمپیوٹر سے یہ پیشن گوئی کرنے میں مدد ملی کہ اکیلے لامی ہڈی کے اعداد و شمار کیا ہیں جس سے حلق 


کی نالی کی شکل کا تعین کرنے میں مدد ملے گی.


پهر اسی مساوات کو نینڈرتهال کی مخر نالی کی شکل معلوم کرنے کے لئے نینڈرتهال کی کهوپڑی سے 


موصول شدہ اعدادوشمار کے ساتھ استعمال کیا گیا.


نینڈرتهال کی مخر (حلق) نالی جدید انسانی نسل کے مردوں سے لمبائی میں کم اور چوڑائی میں زیادہ تهی، 


جب کہ موجودہ عورتوں کی مخر نالی سے مشابہت رکهتی تهی.

جیسا ہم نے توقع کی ہے اس کی بجائے یہ بهی ممکن ہے کہ نینڈرتهال مردوں کی آواز اونچی اور بهاری ہو 


اور وہ چوڑے سینے، منہ، بڑے ناک کے نتھنوں سے زوردار، بلند، سخت آواز نکالنے کے قابل ہوں.


لیکن اس بات کی نشاندہی کرنے کے لئے کہ وہ موجودہ انسانوں کے کتنے قریب تهے ان کی مخر نالی میں 


ایسی کوئی وجہ نہیں ملتی کہ نینڈرتهال کیوں کوئی پیچیدہ آوازیں نکالنے سے قاصر تهے. 


وہ طاقتور تهے، انہوں نے خود کو زیادہ بہتر طور پر سردی کے مطابق اپنے جسم کو ڈهال لیا اور شاید 


زیادہ ذہین بهی تهے….


نینڈرتهال کو زندہ ہوناچاہئیے تها. لیکن کیسے ہم یہاں موجود ہیں اور نینڈرتهال ناپید ہو گئے.؟


ایسا لگتا ہے کہ، کسی بہت زیادہ بے ترتیبی نے یہ کام سر انجام دیا.

تقریباً 45,000 سال پہلے  یورپ کی آب و ہوا اچانک گرم سے سرد اور سرد سے گرم ہوئی تهی جس نے 


نینڈرتهال کا ماحولیاتی نظام تبدیل کر دیا.

جنگلوں کے وہ کنارے جو انہیں پناہ گاہیں مہیا کرتے تهے

میدانی علاقوں نے انہیں کم کرنا شروع کر دیا، پروفیسر شئیا کو یقین ہے کہ انہی میدانی علاقوں کی وجہ سے 


نینڈرتهال کے شکاری طور طریقوں کی حکمتِ عملی کام نہ آئی. جیسے جیسے ان کے شکار کرنے کا علاقہ 


سکڑتا گیا ان کی آبادی کم کرنے کا سبب بنتا چلا گیا.


نینڈرتهال سے موازنہ کیا جائے تو ہم انسان ہلکے پتهروں سے بنے ہوئے ہلکے وزن کے نیزے بنایا کرتے 


تهے. یہ نیزے ہمارے آباؤ اجداد کو اس قابل بناتے تهے کہ وہ کهلے میدانوں میں بهی مؤثر طریقے سے شکار 


کر سکیں. میدانی علاقوں میں شکار کی تلاش اور ان کا پیچھا کرنے کے لئے نیزہ اچهالنے کی اعلیٰ مہارت 


اور وسیع پیمانے پر خانہ بدوشی، نقل و حرکت کی ضرورت ہوا کرتی تھی. 

لیکن اس کے لئے یہ کیسے معلوم ہو گا کہ نینڈرتهال ہمارے آباؤ اجداد سے زیادہ پهرتیلے تهے یا کم.؟


اس کے لئے نینڈرتهال کے کان کے اندرونی حصے کا معائنہ کیا گیا، یو سی ایل کے پروفیسر فریڈ سپور نے 


نینڈرتهال کے کم پهرتیلے ہونے کا ثبوت دریافت کیا.

کان کی اندرونی سیمی سرکلر نہریں توازن کا احساس فراہم کرتی ہیں، اور مختلف جانوروں کا مطالعہ کر 


کے انہیں معلوم ہوا کہ کان کی اندرونی نہروں کے سائز اور پهرتیلے ہونےکا آپس میں گہرا تعلق ہے. 


انسانی ارتقاء کے دوران جیسے جیسے ہمارے پهرتیلے پن میں اضافہ ہوا کان کی نہروں کا سائز بهی بڑهتا 


چلا گیا.

لیکن نینڈرتهال کی کان کی نہروں کا سائز نا صرف جدید انسانوں بلکہ ہمارے آباؤ اجداد سے بهی چهوٹا ہوا 


کرتا تها جس کی وجہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کم پهرتیلے تهے.


ڈهانچے کی طرف واپس آتے ہیں،  پروفیسر ہالیڈے نے یہ دریافت کیا کہ نینڈرتهال کے مختصر اعضاء اور 


چوڑی ریڑھ کی ہڈی جدید انسانوں کی نسبت کم موثر حرکت دیتی ہو گی. ان مختصر اعضاء کے ساتھ سفر 


کے لئے جتنی زیادہ توانائی درکار ہے اتنی ہی خوراک کی فراہمی بهی درکار تهی جس کی کمی ارتقائی عمل 


میں نینڈرتهال کی بقاء کے لئے ایک سنگین نقصان ثابت ہوئی تهی.


نینڈرتهال کے لئے، یہ ایک بهیانک اختتام ثابت ہوا تها. نینڈرتهال کے پاس ایک انتہائی موزوں جسم جو 


برفانی دور کی مناسبت سے ڈهل چکا تها آخرکار انہیں ارتقائی عمل میں جانبر نہ کر سکا.


شاید وہ جدید انسانوں سے بہتر طور خود کو ڈهال سکتے تھے،  لیکن یہ ہمارے وہ باپ، دادا تهے جنہوں نے 


کهلے میدانوں کا فائدہ اٹهایا، جنہوں نے خود کو ماحول کے مطابق ڈھال لیا، جو 


زندہ رہے..!!



           مُردوں کو قبروں سے نکال کر سنوارنے والا انوکھا ترین قبیلہ
                                  بشکریہ رکن ٹایم ڈیرہ


جکارتہ (نیوز ڈیسک) دنیا کے 


ہر خطے کے لوگ مختلف قسم 


کے تہوار مناتے ہیں لیکن 


انڈونیشیا کے جزیرے 


سلاویسی پر آباد توراجا نسل 


کے لوگوں کے سالانہ تہوار 


میں ان کے مردہ عزیزوں کی 


لاشیں ان سے ملنے چلی آتی 


ہیں اور گاﺅں می وقت گزارنے 


کے بعد دوبارہ قبروں میں چلی 


جاتی ہیں۔ ان لوگوں کی صدیوں 


پرانی روایت کے مطابق ہر 


سال اگست کے مہینے میں 


مردوں کو ان کی قبروں سے 


نکال کر گاﺅں میں واپس لایا 


جاتا ہے اور پھر انہیں نہلا کر 


خوشبو لگائی جاتی ہے اور 


نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔ 


مردوں کو خوب بنا سنوار کو 


انہیں سارے گاﺅں میں گھمایا 


جاتا ہے۔ اس تہوار پر بوڑھوں، 


بچوں، عورتوں، مردوں سب 


کی لاشیں نکال لی جاتی ہیں۔ 


گاﺅں کے باہر پتھر کے بالا 


خانوں میں لاشوں کو سجایا جاتا ہے جہاں یہ سارے گاﺅں کا نظارہ کرتی 


ہیں۔ تہوار کے خاتمہ پر لاشوں کو دوبارہ قبروں میں پہنچادیا جاتا ہے۔ 


جہاں یہ اگلے سال کے تہوار تک آرام کرتی ہیں۔



      اپنے جسم خود کاٹنے والا دنیا کا پر اسرار ترین قبیلہ
                       بشکریہ رکن ٹایم ڈیرہ



سڈنی (نیوزڈیسک) افریقہ اور 


آسٹریلیا کے گھنے جنگلوں 


اور دور دراز صحراﺅں میں 


پائے جانے والے قدیم وحشی 


قبائل کا رہن صحن اور طرز 


زندگی دور جدید کے انسان 


کیلئے کسی حیرت انگیز 


افسانوں سے کم نہیں۔


آسٹریلیا میں کوئینز لینڈ کے 


صحراﺅں میں آباد مارن یاما 


قبیلہ بھی اپنی عجیب و غریب 


روایات اور کلچر کی وجہ سے ایک عجوبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قبیلے کی روایت ہے کہ اس کے مرد 


ہر سال تین ماہ کیلئے اپنے بزرگوں کی روحوں کو جگانے کیلئے اپنے مقدس مقامات کا سفر کرتے ہیں۔


سڈنی (نیوزڈیسک) افریقہ اور آسٹریلیا کے گھنے جنگلوں اور دور دراز صحراﺅں میں پائے جانے والے قدیم 


وحشی قبائل کا رہن صحن اور طرز زندگی دور جدید کے انسان کیلئے کسی حیرت انگیز افسانوں سے کم 


نہیں۔


یہ لوگ صحرا کے کنارے پر واقع قصبے کلون کری میں تین ماہ گزارتے ہیں اور اس دوران اپنی مقدس 


رسوم سرانجام دیتے ہیں۔


یہ لوگ کینگرو کو مقدس جانور سمجھتے ہیں اور اپنے جسموں پر پتھروں سے گھاﺅ لگا کر کینگرو کی 


تصویریں بناتے ہیں۔ یہ جسموں کو ایک مخصوص رنگ سے مزین کرتے ہیں جسے گیرو، شہد اور خون کے 


آمیزے سے تیار کیا جاتا ہے۔میلبورن سے تعلق رکھنے والے فوٹو گرافر بروک مشیل نے قبیلے کے مردوں کا 


ساتھ سفر کیا اور ان کی مقدس زیارتوں اور رسوم کی تصاویر بنائیں۔ان تصاویر میں زائرین کی منفرد انداز و 


اطوار، لباس، ہتھیار اور جسم پر بنائی گئی تصاویر نمایاں ہیں۔