مظلوم علیشاہ کا نوحہ         


پچھلے دنوں علیشاہ نامی ایک مخنث کو 

پشاور میں گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا 

گیا اور جب زخمی علیشاہ کو ھسپتال لے جاا 

گیا تو اس مظلوم زخمی انسان کے ساتھ 

انسانیت سوز سلوک کیا گیا ہسپتال میں اسکے لیے ایک بیڈ کی جگہ بھی 

نھی تھی اس زخمی انسان کو مردوں کے وارڈ سے عورتوں کے وارڈ 

اور پھر عورتوں کے وارڈ سے مردوں کے وارڈ میں گھمایا جاتا رھا 

ڈاکٹر صاحبان کو مریض کے زخموں کی کوی پرواہ ھی نھی تھی ھاں 

پرواہ تھی تو اسکی کہ مریض کے جسم کی بناوٹ کیسی ھے لعنت ایسے 

مسیحاوں پر جنکو علاج کرنے سے زیادہ ضروری یہ لگا کہ ایک رات 

کے کتنے پیسے لیتی ھو صرف ناچتے ھو یا سیکس بھی کرتے ھو یہ 

ھے ھمارے معاشرے کا حال جہاں زندہ تو زندہ مڑدے انسان کے جسم 

کی بناؤٹ بھی اھمیت رکھتی ھے

علیشاہ ھم سب تمھارے مجرم ھیں ھم سب تم سے شرمندہ ھیں کہ ھم نے 

ایسے تماش بینوں کو جنم دیا ھے جواحتجاج کے وقت ھنس رھے تھے 

لعنت ایسے تماش بینوں پر -

ھم نے ایسے منافقوں کو اپنا مزھبی لیڈر بنا لیا ھے جنکو انسانیت سے 

زیادہ تمھارے جسم کی بناوٹ پر اعتراض تھا تمھارا مجرم تھا وہ مولوی 

جو جنازے سے پھلے تمکو زانی اور ناچنے والا کھہ رھا تھا

وی پوچھے اس مولوی سے او بد بخت اور بد طینت انسان تو کبھی انکے 

جنازے پر یہ بات کیوں نھی کرتاجو زبردستی اسکو نچواتے ھیں یا ان 

سے زنا کرتے ھیں اسوقت کیوں تیری زبان پر تالے لگے ھوتے ھیں؟؟؟

الغرض پاکستانی معاشرے کو اسی مولوی جیسے لوگوں نے ایک ایسے 

لاش خانے میں بدل دیا ھے جس سے اب ھر وقت بدبو آٹھ رھی ھے

آخر میں کھنا صرف یہ چاھتا ھوں کہ علیشاہ کے قاتل صرف وہ نھی 

جنھوں نے اس پر گولیاں چلاٰٰیٰ ھیں بلکہ ھمارا معاشرہ اسکا قاتل ھے جو 

مخنثوں کو انسان سمجھنے کے لیے تیار ھی نھی ھے